قُرآن پَڑھنا- ذریعہ ہدایت

Read in…         HINDI        ENGLISH

ہر آسمانی کتاب اور رسولوں کی زبان کو ﷲ تعالٰی نے قوموں کی اپنی ہی زبان میں اُتارکر اُن قوموں پر رحم وَ کرم کیا۔ تاکہ وہ قومیٔں  ﷲ کے احکامات اور تعلیمات سمجھنے سے قاصِر نہ رہے۔ کیونکہ قُرآن عربؤں پر اُتارا گیا، اِس لِئیے قُرآن کو عربی زبان میں نازِل کیا گیا۔ لیکن ﷲ تعالٰی نے قرآن کو تمام دنیا کے لِیے ذریعہ ہدایت مُقرّر فرما دِیا۔ [قُرآن۔٦:٩٠] ۔ 

کیونکہ تمام عالم کی زبان عربی نہیں ہے اِس لئیے وہ لوگ جو عرب نہیں ہیں یا عربی زبان کو سمجھ نے سے قاصِر  ہیں انہیں قرآن پڑھنے اور پڑھانے کے لیے فرضی طور پر دو طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔

۱۔ پہلا یہ کہ۔

ﷲ اور اس کے احکامات کو جاننے اور ذریعہ ہدایت کی راہیں تلاش کرنے کے لیے قرآن کو اپنی مادری زبان میں پڑھنا اور پڑھانا چاہیے۔ یاکہ  جِس زبان کو وہ بہت اچھی طرح سمجھتے ہوں۔ تاکہ وہ ﷲ کی قدرت، اس کے احکامات اور قرآن کی عظمت کو سمجھیں۔ اور ان پر عمل کریں۔  

۲۔ دوسرا یہ کہ۔

قرآن مجید عربی میں بھی پڑھنا چاہیے۔ تاکہ ﷲ کی تحریر کا اور اُس کے اندازہ  بیاں کا لُطف حاصِل کر سکیں۔ پھر بھلے ہی وہ سمجھ میں نہ آۓ۔

ﷲ تعالٰی رہتی دُنیا   تک تمام زندہ لوگؤں کو دونوں طریقؤں سے قُرآن پڑھنے اور پڑھانے کی توفیق عطا فرماۓ۔

ﷲ تعالٰی قُرآن میں بار بار فرماتا ہے کہ کہیں اندھے اور بینائی یافتہ برابر ہو سکتے ہیں؟  ہر گِز نہیں۔  یہاں پر اندھے وہ ہیں جو دیکھ تو سکتے ہیں لیکِن سمجھتے نہیں ہیں۔ اور بینائی یافتہ وہ ہیں جن کی آنکھیں بھلے ہی تاریک ہوں مگر اُنہیں حق کا عِلم ہو۔

ﷲ [قُرآن ٣: 138 ] میں فرماتا ہے یہ قُرآن لوگؤں کے واسطے محض بیان ہے اور   ڈرنے والؤں کے لئیے ذریعہ ہدایت اور نصیحت ہے۔

یہاں پر  ’’بیان‘‘  سے مراد ہے کہ قُرآن پڑھنے یا سُننے کے بعدسمجھ میں نہ آۓ [یعنی اُس زبان میں سُننا یا پڑھنا جو سمجھ نہ آتی ہو] ۔ تو وہ محض بیان ہے۔   اور  ’’ڈرنے والؤں کے لئیے ذریعہ ہدایت‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جِس کی سمجھ میں آیٔگا وہ ڈریگا۔ اور جو ڈریگا، وہ ھدایت پایٔگا۔ [یعنی جو اپنی زبان میں پڑھیگا وہ سمجھیگا بھی]۔

**********************

رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔

بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

قرآن پڑھنے سے پہلے اپنے رب کی پناہ مانگو۔

فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ (۹٨) اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلۡطٰنٌ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّھِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ (٩٩) ۔

[Q-16:98-99]

پس جب توُ قرآن پڑھے تو ﷲ کی پنا ہ مانگ۔ دھتکارے ہوئے شیطان سے [نجات کے لیئے]۔ یقیناً۔ اسے ان لوگوں پر کوئی غلبہ نہیں جو ایمان لائے ہیں اور اپنے ربّ پر بھروسہ  کرتے ہیں۔

**********************

پناہ مانگنے کا طریقہ۔

رَّبِّ اَعُوۡذُ بِكَ مِنۡ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيۡنِۙ‏ (۹۷)  وَاَعُوۡذُ بِكَ رَبِّ اَنۡ يَّحۡضُرُوۡنِ‏ (۹۸) ۔

[Q-23:97-98]

اے  میرے رب! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ﴿۹۷﴾ اوراے میرے رب میں تیری  پناہ چاہتا ہوں اِس سے کہ شیطان میرے پاس آئيں ﴿۹۸﴾۔

***********************

قُرآن کو ﷲ کے نام سے شُروع کریں۔

اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ‌ۚ‏ (۱)  خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ‌ۚ‏ (۲)  اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ‏ (۳)  الَّذِىۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ‏ (۴)  عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡؕ‏ (۵) ۔

[Q-96:1-5]

اپنے رب کے نام سے پڑھیئے جس نے سب کو پیدا کیا ﴿۱﴾  جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا ﴿۲﴾   پڑھیئے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم کرنے والا ہے ﴿۳﴾  جس نےعِلمِ قلم سکھایا ﴿۴﴾  انسان کو وہ عِلم سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا ﴿۵﴾۔

***********************

ﷲ کے نام سے شُروع کرنے کا طریقہ۔

 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔

[Q-27:30]

ﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے   ﴿۳۰﴾۔

***********************

قرآن پڑھنے کے لئیے ﷲ کا حکم۔

اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ (۴۵) ۔

[Q-29:45]

اےمُحمّد ﷺ ! یہ کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو ﴿۴۵﴾۔


وَاَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ‌ ۚ ﴿۹۲﴾۔

[Q-27:92]

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کرو﴿۹۲﴾۔

**********************

ذریعہ ہدایت پانےکے لیے! قرآن پڑھو۔

تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ ۙ ﴿۲﴾  هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّلۡمُحۡسِنِيۡنَ ۙ ﴿۳﴾  الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ؕ ﴿۴﴾  اُولٰٓٮِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۵﴾۔

[Q-31:2-5]

 یہ (قرآن مجید) وہ کِتاب ہے کہ جِس میں کچھ شک نہیں (کہ یہ کلامِ خدا ہے اور خدا سے) ڈرنے والے اُن لوگؤں کے لِیئے رہنما ہے ﴿۲﴾  جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور آداب کے ساتھ نماز  پڑھتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ﴿۳﴾  اور جو کتاب (اے محمدؐ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں ﴿۴﴾  یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں ﴿۵﴾۔


اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ (۲۳)۔

[Q-39:23]

ﷲ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے یعنی کتاب [قرآن جو]   باہم ملتی جلتی ہے [پہلی کتابؤں سے] دہرائی جاتی ہیں۔ جس سے خدا ترس لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کی کھالیں نرم ہوجاتی ہیں اور دل یاد الہیٰ کی طرف راغب ہوتے ہیں یہی ﷲ کی ہدایت ہے اس کے ذریعے سے ﷲ جسے چاہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے ﷲ  گمراہ کر دے اسے راہ پر لانے والا کوئی نہیں ﴿۲۳﴾۔


هٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ‏ ﴿۱۳۸﴾۔

[Q-03:138]

   یہ  [قرآن] لوگوں کے واسطے [محض] بیان ہے اور ڈرنے والوں کے لیے ذریعہ ہدایت اور نصیحت ہے ﴿۱۳۸﴾۔


فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ‏ ﴿۴۹﴾  كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ ۙ‏ ﴿۵۰﴾  فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ؕ‏ ﴿۵۱﴾  بَلۡ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ۙ‏ ﴿۵۲﴾  كَلَّا ؕ  بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ ؕ‏ ﴿۵۳﴾  كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ ۚ‏ ﴿۵۴﴾  فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ ؕ‏ ﴿۵۵﴾۔

[Q-74:49-55]

ان کو کیا ہوا ہے کہ اِس  نصیحت (یعنی قُرآن) سے روگرداں ہو رہے ہیں ﴿۴۹﴾ گویا کہ وہ  بِدکے ہوے  گدھے ہیں ﴿۵۰﴾ جیسے شکاری سے  ڈر کر بھاگے جاتے ہیں ﴿۵۱﴾  اصل یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے ﴿۵۲﴾۔

یعنی وہ چاہتے ہیں کہ ہر ایک پر اسی طرح کتاب نازل ہو جس طرح محمدؐ  پر نازل ہوئی تھی۔ پھر وہ ایمان لائیں گے۔

  ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیں ﴿۵۳﴾  کچھ شک نہیں کہ یہ (قُرآن) ذریعہ ہدایت  ہے ﴿۵۴﴾  تو جو چاہے اسے یاد رکھے ﴿۵۵﴾۔


وَهٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسۡتَقِيۡمًا‌   ؕ  قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّذَّكَّرُوۡنَ‏ ﴿۱۲۶﴾  لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿۱۲۷﴾۔

[Q-06:126-127]

 اور یہی [اِسلام] تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے (قُرآن میں) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں ﴿۱۲۶﴾  ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا مددگار  ہے ﴿۱۲۷﴾۔


هٰذَا بَصَاٮِٕرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ‏ (۲۰) ۔

[Q-45:20]

یہ [قرآن] لوگوں کے لئے دانائی (سمجھ) کی باتیں ہیں اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ذریعہ ہدایت اور رحمت ہے ﴿۲۰﴾۔


وَلَقَدۡ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۵۲﴾۔

[Q-07:52]

اور ہم  ان کے پاس ایک ایسی کتاب لاۓ۔  جسے ہم نے اپنے عِلم کامِل سے بہت ہی واضح کر کے بیان کر دیا ہے۔  جو کہ ذریعہ ہدایت  اور   رحمت ہے ان لوگؤں کے لیۓ جو ایمان لاۓ ﴿۵۲﴾۔


قُلۡ نَزَّلَهٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَـقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿۱۰۲﴾۔

[Q-16:102]

آپؐ کہدیں!  کہ اس [قرآن] کو روح القدس  (جبرائیلؑ) تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ [قرآن] مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو [یہ] ذریعہ ہدایت اور بشارت ہے ﴿۱۰۲﴾۔


قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ مِنۡ رَّبِّىۡ ۚ  هٰذَا بَصَآٮِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَّ رَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۲۰۳﴾۔

[Q-07:203]

آپؐ! کہدیں۔ میں تو اسی کی  پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے سمجھ کی باتیں  ہیں اور ایمان والؤں کے لیے ذریعہ ہدایت اور رحمت ہے۔ ﴿۲۰۳﴾۔


اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۵۱﴾۔

[Q-29:51]

کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی جو ان پر پڑھی جاتی ہے بے شک اس میں رحمت ہے اور ایمان والوں کے لیے یہ ذریعہ ہدایت ہے ﴿۵۱﴾۔


وَاَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ‌ۚ فَمَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ‌ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ‏ (۹۲) ۔

[Q-27:92]

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کرو۔ تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں ﴿۹۲﴾۔


وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿۱۷﴾۔

[Q-54:17/22/32/40]

اور بیشک ہم نے قرآن کو  ذریعہ ہدایت کے لیے آسان فرما  دیا  تو ہے کوئی  ہدایت  پانے والا ؟ ﴿۱۷﴾۔


 اِنَّ الَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً يَّرۡجُوۡنَ تِجَارَةً لَّنۡ تَبُوۡرَۙ‏ (۲۹) ۔

[Q-35:29]

 بے شک جو لوگ ﷲ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور پوشیدہ اور ظاہر اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے انہیں دیا ہے وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں کہ اس میں خسارہ  (نقصان) نہیں ﴿۲۹﴾۔

********************

قرآن پڑھنے کا وقت۔

وَقُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ‌ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُوۡدًا (۷۸) ۔

[Q-17:78]

اور فجر کا قرآن – بے شک! فجر کے وقت میں قُرآن کا پڑھنا – باعِثِ گواہی ہوگا ﴿۷۸﴾۔

*********************

قرآن پڑھنے کا طریقہ۔

وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا ؕ‏ (۴) ۔

[Q-73:04]

اور قرآن کو خوب ٹھہر -ٹھہر کر پڑھو ﴿۴﴾۔


وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡـقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً‌ ‌ۚ كَذٰلِكَ ‌ۚ  لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُـؤَادَكَ‌ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا‏ (۳۲) ۔

[Q-25:32]

 اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر یکبارگی قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ اِسی طرح [اس لئیے] نازِل کیا گیا تاکہ ہم اس سے تیرے دل کو اطمینان دیں۔ اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ سنایا ﴿۳۲﴾۔

یعنی ٹھہر-ٹھہر کر (تھوڑا تھوڑا) پڑھنے سے علم دل کی گہرائیوں میں داخل ہوتا ہے اور دل کو تقویت دیتا ہے۔


 وَقُرۡاٰنًا فَرَقۡنٰهُ لِتَقۡرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكۡثٍ وَّنَزَّلۡنٰهُ تَنۡزِيۡلًا‏ (۱۰۶) ۔

[Q-17:106]

اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا۔  تاکہ تو مہلت کے ساتھ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارا ہے ﴿۱۰۶﴾۔

************************

قرآن سننے کا حکم۔

وَاِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏ (۲۰۴) ۔

[Q-07:204]

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو۔ اور خاموش رہا کرو۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے ﴿۲۰۴﴾۔

Leave a Reply